29 مارچ 2011 - 19:30

اقوام متحدہ، نیٹو، افریقی یونین اور عرب لیگ کے چالیس ملکوں کے اعلی حکام اور نمائندوں نے لیبیا کے ڈکٹیٹر معمرقذافی سے کہا ہے کہ وہ اقتدار سے کنارہ کش ہوجائيں۔

ابنا: پریس ٹی وی کے مطابق لیبیا میں مغربی ملکوں کی فضائی کاروائی کے گیارہویں دن لندن کانفرنس کے شرکاء نے جو منگل کو ہوئی ایک مشترکہ طور پر معمرقذافی سے کہا کہ وہ اقتدار سے کنارہ کشی اختیار کرلیں۔ اس کانفرنس کے شرکاء نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جب تک معمرقذافی لیبیا کے شہریوں پر اپنے حملے بند اور عوام کے لئے انسان دوستانہ امداد بہم پہنچانے کی اجازت نہیں دیتے اس وقت تک فضائی حملے جاری رہيں گے۔اٹلی کے وزیر خارجہ فرانکو فراتینی نے کہاکہ لندن اجلاس کے شرکاء نے متفقہ طور پر معمرقذافی سے اقتدار سے الگ ہوجانے کو کہا ہے لندن اجلاس سے پہلے قذافی کی ملک بدری کے بارے میں قیاس آرائیاں کی جارہی تھیں اور کہا جارہا تھا کہ قذافی کو ملک سے چلے جانے کے لئے راستہ دے دیا جائے لیکن اس بارے میں اجلاس نے کوئي فیصلہ نہيں کیا۔برطانوی وزیر خارجہ ویلیم ہيگ نے بھی کہا کہ اجلاس کے شرکاء کا اس بات پر اتفاق تھا کہ معمرقذافی اقتدار میں رہنے کا جواز کھوچکے ہيں۔یاد رہے کہ یہ اجلاس ایک ایسے وقت ہوا ہے جب امریکہ کی سر کردگی میں لیبیا پر فرانس اور برطانیہ کے جنگی طیاروں کے حملوں میں عام شہریوں کی بڑے پیمانے پر ہلاکتوں سے پوری دنیا میں شدید ناراضگی پائی جارہی ہے۔انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد نے اس اجلاس کے موقع پر لندن میں مظاہرہ کیا اور لیبیا پر مغربی ملکوں کے ہوائی حملوں کی مذمت کی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

/110